تھلپتھی وجے کی آخری فلم 'جانا نایاکن' کی ریلیز کا راستہ صاف: سنسر بورڈ اور قانونی جنگ کے بعد جولائی میں دھماکا!
ساؤتھ انڈین سنیما کے سدا بہار سپر اسٹار تھلپتھی وجے (Thalapathy Vijay) کی سب سے زیادہ تنازعات کا شکار رہنے والی فلم 'جانا نایاکن' (Jana Nayagan) کا طویل انتظار بالآخر ختم ہونے والا ہے۔ تامل سنیما کی حالیہ تاریخ میں اس فلم کی ریلیز کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، لیکن اب غیر سرکاری رپورٹس کے مطابق یہ ایکشن ڈراما اسی مہینے یعنی جولائی کے آخر تک تھیٹرز کی زینت بننے کے لیے تیار ہے۔
یہ فلم وجے کے کیریئر کی آخری فلم ہے، جس کے بعد وہ اپنی تمام تر توجہ تامل ناڈو کی سیاست اور بطور چیف منسٹر اپنے سیاسی سفر پر مرکوز کر دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فلم کو لے کر فینز میں شدید ہیجان پایا جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فلم کو اسی ہفتے سنسر بورڈ کی جانب سے کلیرنس ملنے کی امید ہے اور میکرز فلم کو جولائی کے اواخر میں ریلیز کرنے کے لیے ڈسٹری بیوٹرز سے فائنل بات چیت کر رہے ہیں۔
سنسر بورڈ کے اس اعتراض کے بعد پروڈکشن ہاؤس KVN پروڈکشنز نے مدراس ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا، جس سے میکرز اور بورڈ کے درمیان ایک ماہ طویل قانونی جنگ چھڑ گئی۔ بعد میں پروڈکشن ہاؤس نے اپنی پٹیشن واپس لے کر فلم کو ریوائزنگ کمیٹی کے پاس بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی۔ معاملہ اس وقت مزید خراب ہو گیا تھا جب اپریل میں فلم کا فل ایچ ڈی (HD) پرنٹ آن لائن لیک ہو گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ماسٹر مائنڈ سمیت اہم ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ اب میکرز 16 جولائی سے 7 اگست کے درمیان کی مختلف تاریخوں پر غور کر رہے ہیں، اور فینز کو بس اب آفیشل اعلان کا انتظار ہے۔
تحریر: طیبہ عصمت
Vijay's Jana Nayagan Targets July Release After Legal and Censorship Hurdles
Tamil superstar Thalapathy Vijay’s highly controversial action drama Jana Nayagan is finally gearing up for a theatrical release this July. Marking the actor's final project before transitioning fully into a political career, the film has faced severe delays due to an intense standoff with the Central Board of Film Certification (CBFC) over scenes alleged to favor Vijay's political campaign.
Originally scheduled for a January 9 release, the movie was pushed back by six months, leading KVN Productions into a month-long legal battle with the Madras High Court. The situation worsened in April when an HD print of the film leaked online, resulting in multiple arrests. Currently, the makers are securing censor clearance and eyeing multiple release windows between July 16 and August 7.
Written by: Tayyaba Ismat

Comments
Post a Comment