تحریر: طیبہ عصمت
ڈرامہ 'ہمراہی' کا پوسٹ مارٹم: دانش تیمور کی 'امیرانہ غریبی' اور ڈائریکٹر کی فاش غلطیاں سامنے آ گئیں!
جیو ٹی وی (Geo TV) پر نشر ہونے والا نیا ڈرامہ سیریل 'ہمراہی' (Humrahi) ان دنوں ناظرین کی توجہ کا مرکز تو بنا ہوا ہے، لیکن اگر کہانی اور منطق کی بات کی جائے تو اس میں صرف ایک ہی فارمولا چل رہا ہے اور وہ ہے—ایڈیٹنگ، فلٹرز، خوبصورت لکس (Looks) اور صرف لکس! ڈرامے کی اصل کہانی پر تو جیسے کسی کی توجہ ہی نہیں ہے۔ اتنی شاندار اور جاندار کہانی کو اب آہستہ آہستہ اسکرپٹ رائٹنگ کی خامیوں کی وجہ سے کچرے کا ڈبہ بنا دیا گیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ ڈرامہ صرف اور صرف دانش تیمور (Danish Taimoor) اور حبا بخاری (Hiba Bukhari) کی زبردست فین فالوونگ کی وجہ سے چل رہا ہے، ورنہ اس کی لاجک کو بالکل تباہ و برباد کر کے رکھ دیا گیا ہے۔
ہمارے پاکستانی ڈراموں کا اب ایک پکا اصول بن چکا ہے کہ کردار غریب ہو یا امیر، اچھے برانڈڈ کپڑے پہننا اور ہر وقت ماڈل دکھنا لازمی ہے! اور یہی کچھ ہمیں 'ہمراہی' میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ذرا ڈرامے کی لاجک چیک کریں۔ جب سیہان صاحب (دانش تیمور) گھر سے نکلے تھے تو نہ ان کے پاس کوئی گاڑی تھی، نہ پیسے اور نہ ہی کوئی بینک اکاؤنٹ! وہ خود ڈائیلاگ بول رہے ہیں کہ "اگر کوئی پیسوں کا پوچھے تو میں تو بالکل غریب ہوں..."
ایسا لگتا ہے کہ گیسٹ ہاؤس کے مالک اتنے عقلمند تھے کہ انہیں پہلے ہی سے پتہ تھا کہ ایک بھولا بھالا، بھٹکا ہوا امیر زادہ آئے گا جس کے پاس پہننے کو کپڑے نہیں ہوں گے، اس لیے انہوں نے پہلے ہی سے لاکھوں کے لانگ کوٹ (Long Coats) اور برانڈڈ جیکٹس کا انتظام کر کے رکھا ہوا تھا! ارے بھائی! اگر ہیرو کو غریب یا بے بس دکھانا تھا، تو کوئی ایک آدھ پرانی شلوار قمیص ہی پہنا دیتے جسے پہنے پہنے کچھ دن گزر جاتے، مگر یہاں تو ہر سین میں نئی شرٹ، نئی جیکٹ اور لانگ کوٹ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ اور ستم ظریفی دیکھیے، وہ گیسٹ ہاؤس والے تو خود بال بال قرضے میں ڈوبے ہوئے ہیں، وہ سیہان صاحب کو روز نئے سوٹ کہاں سے دلوا رہے ہیں؟ یہ ہے ہمارے ڈراموں کی شاندار لاجک!
کپڑوں کی ان بونگیوں سے آگے بڑھیں تو بات کرتے ہیں اداکارہ ہاجرہ یامین (Hajra Yamin) کی انٹری پر۔ ناظرین، ہاجرہ یامین کو یہ کریکٹر بالکل بھی سوٹ نہیں کیا۔ ان کے بولنے کا اسٹائل، ان کا ڈائیلاگ ڈلیوری (Dialogue Delivery) کا طریقہ اس سین اور کردار کے حساب سے اتنا عجیب اور برا لگتا ہے کہ بندہ سر پکڑ کر بیٹھ جائے۔ ایسا صاف محسوس ہوتا ہے کہ زبردستی ان سے یہ لائنز کہلوائی جا رہی ہیں اور وہ اس کردار میں بالکل فٹ نہیں بیٹھیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ ڈرامہ 'ہمراہی' میں اب صرف خامیاں ہی کمیاں رہ گئی ہیں اور کہانی کو زبردستی کھینچنے کے لیے عجیب و غریب منطق کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ پروڈکشن ویلیو اور گلیمر کے چکر میں ڈرامے کی اصل روح کو مار دیا گیا ہے۔
Watch Our Review Video Here:
Humrahi Drama Review: Danish Taimoor's Stylish Poverty Sparks Hilarious Logic Flaws
The new Geo TV drama serial Humrahi has unfortunately fallen prey to a classic Pakistani drama formula: focusing heavily on editing, heavy filters, and glamorous styling while completely abandoning story logic. The show is currently surviving solely due to the massive stardom and fan-following of Danish Taimoor and Hiba Bukhari.
A major plot hole exposed in recent episodes is the character of Seehan (Danish Taimoor). Despite leaving his home completely broke—with no money, no car, and no bank account—Seehan is seen sporting expensive branded jackets, high-end long coats, and stylish shoes in every single scene. The irony is that he is staying at a guest house that is already drowning in debt, yet somehow managing to provide a luxury wardrobe for him daily. Furthermore, netizens feel that Hajra Yamin’s entry as a new character felt highly unnatural, with weak dialogue delivery that completely ruined the scene's impact. The drama is losing its essence to unnecessary drag and poor execution.
Written by: Tayyaba Ismat

Comments
Post a Comment