سلینا جیٹلی کا اپنے سابق شوہر کو کرارا جواب: ہتکِ عزت کے نوٹس پر اداکارہ نے خاموشی توڑ دی
بالی ووڈ اداکارہ سلینا جیٹلی (Celina Jaitly) اور ان کے سابق شوہر پیٹر ہاگ (Peter Haag) کے درمیان جاری قانونی جنگ نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ حال ہی میں سلینا جیٹلی کو ان کے شوہر اور سسر وولف گینگ ہاگ کی جانب سے ہتکِ عزت (Defamation) کے قانونی نوٹس بھیجے گئے ہیں، جن میں اداکارہ پر جھوٹے الزامات لگانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اداکارہ کے سابق شوہر کے وکلاء کا کہنا ہے کہ سلینا نے سوشل میڈیا پوسٹس اور انٹرویوز کے ذریعے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے، جبکہ بچوں کی تحویل (Child Custody) کا کیس ابھی آسٹریا کی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہے۔ تاہم، فلم 'جانشین' کی اداکارہ نے ان تمام نوٹسز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ڈرنے والی نہیں ہیں۔
سلینا جیٹلی نے انسٹاگرام پر ایک طویل بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قانونی ٹیم (Karanjawala & Co) نے ان نوٹسز کا بھرپور جواب دے دیا ہے۔ اداکارہ کا دعویٰ ہے کہ وہ ہمیشہ سے بچوں کی مشترکہ تحویل (Joint Custody) اور باہمی رضامندی سے طلاق کی حامی رہی ہیں، لیکن عدالتی احکامات کے باوجود انہیں ان کے بچوں سے بات تک نہیں کرنے دی جا رہی۔ سلینا نے مزید کہا کہ انہیں بھارت اور آسٹریا دونوں ممالک کے عدالتی نظام پر پورا بھروسہ ہے۔
Celina Jaitly Responds to Defamation Threats Amid Custody Battle
Actress Celina Jaitly has publicly addressed the legal notices sent by her estranged husband, Peter Haag, and his father, Wolfgang Haag. The notices threaten defamation proceedings following her social media statements regarding their ongoing family dispute in Austrian courts.
In a detailed Instagram post, Celina argued that sharing her lived experiences is not defamation and alleged that these legal threats are an attempt to silence her. She emphasized that her fight is primarily for her children, whom she remains unable to contact despite existing court orders. Represented by Karanjawala & Co, the actress maintains full faith in the judicial systems of India and Austria.

Comments
Post a Comment