بابرہ شریف کا نئے اداکاروں پر شدید غصہ: پروڈیوسرز پر نخروں اور عیاشیوں کا بوجھ ڈالنا بند کریں!
پاکستانی سنیما کے سنہری دور کی سب سے مقبول اور سدا بہار اداکارہ بابرہ شریف (Babra Sharif) نے انڈسٹری کے نئے آنے والے فنکاروں کو ایک کھرا اور واشگاف پیغام دیا ہے۔ ایک حالیہ پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے انہوں نے آج کل کے اسٹارز کے نخروں، سیٹ پر نان پروفیشنل رویے اور پروڈیوسرز سے کی جانے والی مہنگی فرمائشوں پر کھل کر تنقید کی ہے۔
بابرہ شریف کا کہنا تھا کہ اداکاروں کو اپنے پروڈیوسرز کی زندگی عذاب نہیں بنانی چاہیے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کل کے نئے فنکاروں میں ٹیلنٹ سے زیادہ 'ایٹی ٹیوڈ' (Attitude) نظر آتا ہے۔ سیٹ پر آتے ہی انہیں اپنے ذاتی کارواں (Caravans) اور مہنگے ہوٹل کے کمرے چاہئیں ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنے دور کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے وقتوں میں ہم گھر سے اپنا کھانا لاتے تھے تاکہ پروڈیوسر پر کوئی اضافی بوجھ نہ پڑے۔
بابرہ شریف نے انڈسٹری میں بڑھتے ہوئے اقربا پروری (Favouritism) کے کلچر کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ کاسٹنگ ڈائریکٹرز نئے ٹیلنٹ کی کمی کا جھوٹا رونا روتے ہیں، جبکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ صرف اپنے دوستوں کو نواز رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے فلموں سے گانے ختم کرنے کے ٹرینڈ کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ گانے ہماری کہانی کا لازمی حصہ ہیں، ان کے بغیر مقامی سنیما کا کوئی وجود نہیں ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ہمیں اپنی انڈسٹری کو دوبارہ عروج پر لانے کے لیے پاکستان کی پرانی کلاسک فلموں کے ریمیکس بنانے چاہئیں، جنہیں پڑوسی ملک بھی کاپی کرتا رہا ہے۔
Babra Sharif Advises New Generation Stars to Drop Attitude and Luxury Demands
Veteran Lollywood icon Babra Sharif has shared a candid and powerful message for the new generation of Pakistani actors, urging them to drop their high attitude and excessive material demands on set. Speaking at a press conference, she criticized the modern vanity culture where newcomers demand private caravans and luxury hotel rooms, contrastingly recalling her era when actors brought food from home to avoid burdening the producers.
Sharif also highlighted the heavy favoritism plaguing casting choices and strongly opposed the trend of removing songs to mimic Western filmmaking. According to her, cinema is fundamentally a source of uplifting entertainment and fantasy to escape real-world miseries. She concluded by suggesting that the Pakistani film industry should look inward and consider remaking its own classic hit movies to revive its golden glory days.

Comments
Post a Comment