The global film industry is currently deeply divided over the integration of Artificial Intelligence (AI) in filmmaking. However, Hollywood icon and Cannes 2026 jury member Demi Moore believes that fighting the rise of AI is a losing battle. Speaking at a press conference on the opening day of the 79th Cannes Film Festival, Moore urged her peers to embrace the technology rather than resist it.
"AI is here. And so to fight it is to fight something that is a battle that we will lose," Moore told journalists. "So to find ways in which we can work with it, I think, is a more valuable path to take."
While acknowledging that there are "beautiful aspects" to utilizing AI, the actress also admitted that the industry might not be doing enough to protect creators and actors from its risks. When asked if enough safeguards are in place, she remarked, "My inclination would be to say probably not."
However, the star of The Substance reassured artists that technology can never truly replace human creativity. According to Moore, true art does not come from the physical or technical world—it comes from the soul and the human spirit, something machines can never replicate. The discussion on AI remains a central theme at Cannes this year, even though generative AI is strictly barred from the main competition.
کانز 2026: شوبز دنیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا مقابلہ نہیں کر سکتی، ڈیمی مور کا بڑا بیان
عالمی فلم انڈسٹری اس وقت فلم سازی میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال پر شدید تقسیم کا شکار ہے۔ تاہم، ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور کانز فلم فیسٹیول 2026 کی جیوری ممبر ڈیمی مور (Demi Moore) کا ماننا ہے کہ اے آئی کے خلاف لڑنا ایک ایسی جنگ ہے جس میں فلم انڈسٹری کو شکست ہوگی۔ 79ویں کانز فلم فیسٹیول کے افتتاحی دن ایک پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے انہوں نے ساتھی فنکاروں پر زور دیا کہ وہ اس ٹیکنالوجی کے خلاف مزاحمت کرنے کے بجائے اس کے ساتھ کام کرنے کے طریقے تلاش کریں۔
ڈیمی مور نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "اے آئی اب آ چکی ہے۔ اور اس کے خلاف لڑنے کا مطلب ایک ایسی جنگ لڑنا ہے جس میں ہم ہار جائیں گے۔ اس لیے ایسے طریقے تلاش کرنا جس میں ہم اس کے ساتھ مل کر کام کر سکیں، زیادہ قیمتی اور فائدہ مند راستہ ہے۔"
اداکارہ نے تسلیم کیا کہ جہاں اے آئی کو استعمال کرنے کے کئی بہترین پہلو ہیں، وہیں انڈسٹری شاید فنکاروں اور تخلیق کاروں کو اس کے خطرات سے بچانے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ہم اپنی حفاظت کے لیے کافی کام کر رہے ہیں، تو انہوں نے کہا، "میرا خیال یہی ہے کہ شاید ہم کافی اقدامات نہیں کر رہے۔"
تاہم، انہوں نے فنکاروں کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کبھی بھی حقیقی انسانی تخلیق کی جگہ نہیں لے سکتی۔ ڈیمی مور کے مطابق، سچی آرٹ مادی یا تکنیکی دنیا سے نہیں آتی، بلکہ یہ انسان کی روح اور جذبے سے جنم لیتی ہے، جسے مشینیں کبھی بھی دوبارہ تخلیق نہیں کر سکتیں۔ واضح رہے کہ کانز فیسٹیول میں اگرچہ اے آئی سے تیار کردہ مواد کو مقابلے میں شامل کرنے کی اجازت نہیں ہے، لیکن اس سال فیسٹیول میں اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔

Comments
Post a Comment